ٹرمپ کو نوبل انعام، غزہ میں امن اور کشمیریوں کی آزادی سے مشروط — ڈاکٹر شوکت علی شیخ
برمنگھم : پاکستان مسلم لیگ اوورسیز برطانیہ کے رہنما ڈاکٹر شوکت علی شیخ نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس صدی کا سب سے بڑا نوبل انعام ملنے کی امید ہے، جو فلسطین و غزہ کے دو ریاستی موقف اور غزہ میں جنگ رکوانے سے مشروط ہوگا۔
برمنگھم کے ایک مقامی ہوٹل میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر شوکت علی شیخ کا کہنا تھا کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ فلسطین و غزہ میں عوام کی امنگوں کے مطابق مفاہمتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے امن قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے اور اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو مودی سرکار سے آزادی دلانے میں بھی کامیاب ہو گئے تو نوبل انعام ملنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی۔ ان کے مطابق، اوورسیز پاکستانی اور دنیا میں امن کے خواہاں بھی ٹرمپ کو نوبل انعام ملنے کی بھرپور حمایت کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے جو دنیا میں ہر قسم کے ظلم و دہشت گردی کی مذمت کرتا ہے اور ہمیشہ مظلوموں کے ساتھ کھڑا رہتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی بہادر فوج ملک کے اندر اور باہر امن کی ضمانت ہے، جس کا اعتراف عالمی سطح پر کیا گیا ہے۔ خصوصی طور پر امریکی صدر ٹرمپ نے پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو وائٹ ہاؤس مدعو کرکے شاباش دی اور افواجِ پاکستان کو سراہا۔ یہ تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے کہ کسی ملک کی فوج کے سربراہ کو یہ اعزاز دیا گیا، جس سے مودی سرکار کی نیندیں حرام ہو گئی ہیں۔
تقریب میں پارٹی اراکین اور مختلف مکاتبِ فکر کی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آخر میں قائد چوہدری شجاعت حسین کی صحتیابی کے لیے دعا کی گئی، مہمانوں کی روایتی کھانوں سے تواضع کی گئی، ملک کے لیے دعاے خیر مانگی گئی اور 14 اگست کی مبارکباد پیش کی گئی۔